19 جنوری 2014 - 20:30
عرب کبھی کھل کر اور کبھی چھپ کر کہتے ہیں کہ اسرائل ہمارا دوست ہے

صہیونی ریاست کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک انٹرویو میں جو کل منتشر ہوا: کہا عربوں نے خصوصی نشستوں میں اسرائیل کو اپنا دوست بتایا ہے اور ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش ظاہر کی ہے۔

ابنا: نیتن یاہو جو کینیڈا کے سی ٹی وی چینل کو انٹرویو دے رہا تھا کنیڈا کی طرف سے اسرائیل کی بے دریغ حمایت پر تنقید کے جواب میں کہا:میں ان لوگوں سے کہ جو کینیڈا کے اس موقف پر کہ وہ اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے تنقید کرتے ہیں کہتا ہوں کہ وہ مشرق وسطی میں آئیں اگر وہ دنیائے عرب میں جائیں وہ سمجھ جائیں گے کہ بہت سارے لوگ اپنے موقف میں تجدید نظر کر رہے ہیں۔ اس نے مزید کہا:اس بنا پر جب کینیڈا کہتا ہے اسرائیل ہمارا دوست ہے تو ضروری نہیں کہ وہ عربوں کو آزردہ کر رہا ہو بلکہ اس کے بالکل بر عکس ہے اس لیے کہ عرب بدل رہے ہیں بہت سارے عرب کبھی کھل کر اور کبھی مخفی طور پر خصوصی محافل میں کہتے ہیں اسرائیل ہمارا دوست ہے۔

صہیونی وزیر اعظم نے اس کے علاوہ یہ دعوی بھی کیا ہے کہ عرب ممالک کی اصلی تشویش ایران کے جوہری ہتھیاروں کا حصول ہے۔ نیتن یاہو نے اس انٹرویو میں گذشتہ چند ماہ کی طرح ایک بار پھر ایران کے صدر کو ملاقات کی دعوت دی اور خود ہی اس کی شرط بھی مقرر کی اس نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا داووس کی اقتصادی میٹینگ میں وہ حسن روحانی کے ساتھ ملاقات کے لیے تیار ہے کہا : اگر روحانی نے کہا کہ ہم یہودی ملک کو تسلیم کرتے ہیں اور ایران صلح میں اسرائیل کے ساتھ ہونے کے لیے تیار ہے اور یہودی ہمیشہ وہاں رہ سکتے ہیں تو ہم بھی یہی چاہیں گے چاہے داووس میں ہو یاکسی اور مقام پر۔

.......

/169